استاذ کا ادب
ایک طالب علم اس وقت تک علم حاصل نہیں کرسکتا اورنہ ہی اس سے نفع اٹھا سکتاہے جب تک کہ وہ علم اور اہل علم کی تعظیم وتوقیر نہ کرے۔ کسی نے کہا ہے کہ
جس نے جو کچھ پایا ادب واحترام کرنے کے سبب ہی سے پایا
اورجس نے جوکچھ کھویا وہ ادب واحترام نہ کرنے کے سبب ہی کھویا ۔
ادب واحترام کرنا اطاعت کرنے سے زیادہ بہترہے ۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس نے مجھے ایک حرف سکھایا میں اس کا غلام ہوں چاہے اب وہ مجھے فروخت کردے، چاہے تو آزاد کردے اورچاہے تو غلام بنا کر رکھے ۔
میں استاد کے حق کو تما م حقوق سے مقدم سمجھتاہوں ، اورہر
مسلمان پر اس کی رعایت واجب مانتاہوں۔
حق تو یہ ہے کہ استاد کی طرف ایک حرف سکھانے پر تعظیماً ایک ہزار درہم کا تحفہ بھیجا جائے ۔
اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کا بیٹا عالم دین بنے تو اسے چاہیے کہ تنگدست علماء کی خدمت کریں ،ان کی عزت کرے اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ان کو کچھ نہ کچھ دیتا رہے ان شاءاللہ اگر اس کا بیٹا عالم نہ بھی بنا تو پوتا ضرور بنے گا۔
طالب علم کو چاہیے کہ وہ کبھی استاد کے آگے نہ چلے ۔
ان کی نشست پر نہ
بیٹھے ۔
استاد کی اجازت کے
بغیر کلام کی ابتداء نہ کرے اور نہ ہی استاذ کی اجازت کے بغیر زیادہ
کلام کرے۔
جب وہ پریشان ہوں
تو ان سے بات نہ کرے ۔
استاد کے دروازے کو نہ کھٹکھٹائے آئے بلکہ صبر سے کام لیتے ہوئے استاذ کے باہر آنے کا انتظار کرے۔
اللہ پاک کی نافرمانی والے کاموں میں مخلوق کی
اطاعت جائز نہیں ۔
سرکارﷺ نے فرمایا: لوگوں میں سے بدترین شخص وہ ہے جو کسی کی دنیا سنوارتے سنوارتے اپنے دین کو برباد کرڈالے۔
استاد کی
اولاد اوراس کے رشتہ داروں کی تعظیم بھی
استاد کی تعظیم ہی کا ایک حصہ ہے۔
بخارا کے بڑے آئمہ میں سے ایک امام کا واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ وہ علم دین کی مجلس میں تشریف فرماتھے کہ یکایک انہوں نے بار بار کھڑا
ہونا شروع کردیا،لوگوں نے ان سے اسکی وجہ پوچھی تو فرمایاکہ میرے استاد محترم کا صاحبزادہ بچوں کے ساتھ گلی میں کھیل رہا تھا، کبھی کبھی کھیلتا ہوا وہ مسجد کی طرف آنکلتا ، پس جب میری نظر اُن پر پڑتی تو میں اپنے استاد کی تعظیم میں انکی تعظیم کیلئے کھڑا ہوجاتا۔
امام فخرالدین ارسابندی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ رئیس الائمہ کے مقام پر فائز تھے اورسلطان وقت آپ کا بے حد ادب واحترام کیا کرتاتھا۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے یہ منصب اپنے استاد کی خدمت کرنے کی وجہ سے ملا ہے ،میں نے ان کا تین سال تک کھانا پکایا اوراستاد کی عظمت کو سامنے رکھتے ہوئے میں نے کبھی بھی اس میں سے کچھ نہ کھایا ۔
جو شخص اپنے استاد کیلئے اذیت وتکلیف کا باعث بنے گا ، وہ
علم کی برکتوں سے محروم ہوجاتا ہے۔
ایک مرتبہ شیخ شمس الآئمہ حلوانی رحمۃ اللہ علیہ کو کوئی حادثہ پیش آیا جس کی وجہ سے وہ بخارا سے نکل کر ایک گاؤں میں رہنے لگے ۔ ا
دوران ان کے شاگرد ملاقات کیلئے حاضر ہوتے رہتے مگر ان کے ایک شاگردشیخ شمس الآئمہ زرنجی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ملاقات کیلئے حاضر نہ
ہوسکے پھر جب ایک مرتبہ شیخ شمس الآئمہ حلوانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے پوچھا کہ وہ ملاقات کیلئے کیوں
نہیں آئے تو شمس الآئمہ زرنجی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے عرض کی کہ عالیجاہ! میں دراصل اپنی والدہ کی خدمت میں مشغول تھا اس لیے حاضر
نہ ہوسکا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ تمہیں عمردرازی تو حاصل ہوگی مگر رونق درس نہ پاسکو گے اورایسا ہی ہوا کہ شیخ شمس الآئمہ
زرنجی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا اکثر وقت دیہاتوں میں گزرا اوریہ کہیں بھی درس وتدریس کا انتظام نہ کرسکے ۔
استاد ہویا طبیب دونوں ہی اس وقت تک نصیحت نہیں کرتے جب تک
ان کی عزت نہ کی جائے ۔
اگر توطبیب سے بدسلوکی کرتا ہے تو پھر اپنی بیماری پر صبر کر ، اوراگر تو اپنے استا دسے بدسلوکی کرتا ہے تو پھر اپنی جہالت پر قناعت کر ۔
خلیفہ ہارون الرشید نے اپنے لڑکے کو امام اصمعی کے پاس علم حاصل کرنے کیلئے بھیجا،ایک دن ہارون الرشید نے دیکھا کہ امام اصمعی وضو میں اپنا پیر دھو رہے ہیں اورخلیفہ کا لڑکا پانی ڈال رہا ہے،یہ دیکھ کرخلیفہ نےامام اصمعی سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنے لڑکے کو آپ کے پاس اس لیے بھیجا تھا کہ آپ اسے علم وادب سکھائیں پھر آپ نے وضو کرتے وقت اسے ایک ہاتھ سے پانی ڈالنے اوردوسرے ہاتھ سے پاؤں دھونے کا حکم کیوں نہیں دیا؟
استاذ کا ادب
استاذ کا ادب
ایک طالب علم اس وقت تک علم حاصل نہیں کرسکتا اورنہ ہی اس سے نفع اٹھا سکتاہے جب تک کہ وہ علم اور اہل علم کی تعظیم وتوقیر نہ کرے۔ کسی نے کہا ہے کہ
جس نے جو کچھ پایا ادب واحترام کرنے کے سبب ہی سے پایا
اورجس نے جوکچھ کھویا وہ ادب واحترام نہ کرنے کے سبب ہی کھویا ۔
ادب واحترام کرنا اطاعت کرنے سے زیادہ بہترہے ۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس نے مجھے ایک حرف سکھایا میں اس کا غلام ہوں چاہے اب وہ مجھے فروخت کردے، چاہے تو آزاد کردے اورچاہے تو غلام بنا کر رکھے ۔
میں استاد کے حق کو تما م حقوق سے مقدم سمجھتاہوں ، اورہر
مسلمان پر اس کی رعایت واجب مانتاہوں۔
حق تو یہ ہے کہ استاد کی طرف ایک حرف سکھانے پر تعظیماً ایک ہزار درہم کا تحفہ بھیجا جائے ۔
اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کا بیٹا عالم دین بنے تو اسے چاہیے کہ تنگدست علماء کی خدمت کریں ،ان کی عزت کرے اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ان کو کچھ نہ کچھ دیتا رہے ان شاءاللہ اگر اس کا بیٹا عالم نہ بھی بنا تو پوتا ضرور بنے گا۔
طالب علم کو چاہیے کہ وہ کبھی استاد کے آگے نہ چلے ۔
ان کی نشست پر نہ
بیٹھے ۔
استاد کی اجازت کے
بغیر کلام کی ابتداء نہ کرے اور نہ ہی استاذ کی اجازت کے بغیر زیادہ
کلام کرے۔
جب وہ پریشان ہوں
تو ان سے بات نہ کرے ۔
استاد کے دروازے کو نہ کھٹکھٹائے آئے بلکہ صبر سے کام لیتے ہوئے استاذ کے باہر آنے کا انتظار کرے۔
اللہ پاک کی نافرمانی والے کاموں میں مخلوق کی
اطاعت جائز نہیں ۔
سرکارﷺ نے فرمایا: لوگوں میں سے بدترین شخص وہ ہے جو کسی کی دنیا سنوارتے سنوارتے اپنے دین کو برباد کرڈالے۔
استاد کی
اولاد اوراس کے رشتہ داروں کی تعظیم بھی
استاد کی تعظیم ہی کا ایک حصہ ہے۔
بخارا کے بڑے آئمہ میں سے ایک امام کا واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ وہ علم دین کی مجلس میں تشریف فرماتھے کہ یکایک انہوں نے بار بار کھڑا
ہونا شروع کردیا،لوگوں نے ان سے اسکی وجہ پوچھی تو فرمایاکہ میرے استاد محترم کا صاحبزادہ بچوں کے ساتھ گلی میں کھیل رہا تھا، کبھی کبھی کھیلتا ہوا وہ مسجد کی طرف آنکلتا ، پس جب میری نظر اُن پر پڑتی تو میں اپنے استاد کی تعظیم میں انکی تعظیم کیلئے کھڑا ہوجاتا۔
امام فخرالدین ارسابندی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ رئیس الائمہ کے مقام پر فائز تھے اورسلطان وقت آپ کا بے حد ادب واحترام کیا کرتاتھا۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے یہ منصب اپنے استاد کی خدمت کرنے کی وجہ سے ملا ہے ،میں نے ان کا تین سال تک کھانا پکایا اوراستاد کی عظمت کو سامنے رکھتے ہوئے میں نے کبھی بھی اس میں سے کچھ نہ کھایا ۔
جو شخص اپنے استاد کیلئے اذیت وتکلیف کا باعث بنے گا ، وہ
علم کی برکتوں سے محروم ہوجاتا ہے۔
ایک مرتبہ شیخ شمس الآئمہ حلوانی رحمۃ اللہ علیہ کو کوئی حادثہ پیش آیا جس کی وجہ سے وہ بخارا سے نکل کر ایک گاؤں میں رہنے لگے ۔ ا
دوران ان کے شاگرد ملاقات کیلئے حاضر ہوتے رہتے مگر ان کے ایک شاگردشیخ شمس الآئمہ زرنجی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ملاقات کیلئے حاضر نہ
ہوسکے پھر جب ایک مرتبہ شیخ شمس الآئمہ حلوانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے پوچھا کہ وہ ملاقات کیلئے کیوں
نہیں آئے تو شمس الآئمہ زرنجی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے عرض کی کہ عالیجاہ! میں دراصل اپنی والدہ کی خدمت میں مشغول تھا اس لیے حاضر
نہ ہوسکا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ تمہیں عمردرازی تو حاصل ہوگی مگر رونق درس نہ پاسکو گے اورایسا ہی ہوا کہ شیخ شمس الآئمہ
زرنجی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا اکثر وقت دیہاتوں میں گزرا اوریہ کہیں بھی درس وتدریس کا انتظام نہ کرسکے ۔
استاد ہویا طبیب دونوں ہی اس وقت تک نصیحت نہیں کرتے جب تک
ان کی عزت نہ کی جائے ۔
اگر توطبیب سے بدسلوکی کرتا ہے تو پھر اپنی بیماری پر صبر کر ، اوراگر تو اپنے استا دسے بدسلوکی کرتا ہے تو پھر اپنی جہالت پر قناعت کر ۔
خلیفہ ہارون الرشید نے اپنے لڑکے کو امام اصمعی کے پاس علم حاصل کرنے کیلئے بھیجا،ایک دن ہارون الرشید نے دیکھا کہ امام اصمعی وضو میں اپنا پیر دھو رہے ہیں اورخلیفہ کا لڑکا پانی ڈال رہا ہے،یہ دیکھ کرخلیفہ نےامام اصمعی سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنے لڑکے کو آپ کے پاس اس لیے بھیجا تھا کہ آپ اسے علم وادب سکھائیں پھر آپ نے وضو کرتے وقت اسے ایک ہاتھ سے پانی ڈالنے اوردوسرے ہاتھ سے پاؤں دھونے کا حکم کیوں نہیں دیا؟
سوال: مشورے
کی اہمیت بیان کریں ۔
جواب:ہر شخص کیلئے ضروری ہے کہ وہ ہر کام میں مشورہ ضرور
کیا کرے کیونکہ اللہ پاک نے حضور ﷺ کو تمام کاموں میں مشورہ کرنے کا حکم فرمایا
اورحضور اﷺ تمام کاموں میں حتی کہ گھریلوضروریات تک میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم
سے مشورہ کیا کرتے تھے ۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :''کوئی آدمی مشورہ کرنے سے ہلاک نہیں
ہوا ''۔
سوال: مشورے
کے لحاظ سے انسان کی کتنی اقسام ہیں؟
:جواب
مشورے کے لحاظ سے
انسان تین اقسام کے ہیں مرد کا مل ، نصف مرد اورنامرد۔
مرد کامل اورمکمل انسان وہ ہے جو صاحب الرائے ہے اورمشورہ بھی کرتاہے ۔
نصف مرد وہ ہے جو صاحب الرائے تو ہے لیکن مشورہ نہیں کرتا یا مشورہ کرتا ہے مگر رائے
والا نہیں ۔
نامرد وہ ہے جو نہ تو صاحب الرائے ہے اورنہ ہی مشورہ کرتاہے ۔
مشورے کی اہمیت
سوال: مشورے
کی اہمیت بیان کریں ۔
جواب:ہر شخص کیلئے ضروری ہے کہ وہ ہر کام میں مشورہ ضرور
کیا کرے کیونکہ اللہ پاک نے حضور ﷺ کو تمام کاموں میں مشورہ کرنے کا حکم فرمایا
اورحضور اﷺ تمام کاموں میں حتی کہ گھریلوضروریات تک میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم
سے مشورہ کیا کرتے تھے ۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا :''کوئی آدمی مشورہ کرنے سے ہلاک نہیں
ہوا ''۔
سوال: مشورے
کے لحاظ سے انسان کی کتنی اقسام ہیں؟
:جواب
مشورے کے لحاظ سے
انسان تین اقسام کے ہیں مرد کا مل ، نصف مرد اورنامرد۔
مرد کامل اورمکمل انسان وہ ہے جو صاحب الرائے ہے اورمشورہ بھی کرتاہے ۔
نصف مرد وہ ہے جو صاحب الرائے تو ہے لیکن مشورہ نہیں کرتا یا مشورہ کرتا ہے مگر رائے
والا نہیں ۔
نامرد وہ ہے جو نہ تو صاحب الرائے ہے اورنہ ہی مشورہ کرتاہے ۔
سوال:بچوں کی پرورش کا اسلامی طریقہ تحریر کریں۔
جواب: (1)لڑکے اور لڑکی کو دو سال سے زیادہ دودھ نہ پلایا
جائے۔
(2) جب بچہ کچھ بولنے کے لائق ہو تو اس سے اللہ کا نام
سکھایا جائے۔
(3) جب بچہ سمجھ دار ہو جائے تو اس کے سامنے ایسی حرکتیں نہ
کی جائیں جس سے بچے کے اخلاق خراب ہو ں ۔
(4)بچوں کے سامنے نماز پڑھی جائے،قرآن پاک کی تلاوت کی جائے۔
(5)بزرگان دین کے قصے اور سبق آموز کہانیاں سنائی جائیں ۔
(6) جب بچہ ہو ش سنبھالے تو سب سے پہلے اس کو پانچویں کلمے
، ایمان مجمل، ایمان مفصل اور نماز سیکھائی جائے۔
(7)بچے کو کسی صحیح العقیدہ مولوی کے پاس بٹھا کر قرآن پاک
، دین کی بنیادی باتیں اور پاکی پلیدی کے احکام یاد کروائے جائیں ۔
(8) اگر اللہ پاک نے آپ کو چار یا پانچ بیٹے دیے ہیں تو کسی
ایک کو عالم یا حافظ ضرور بنائیں۔
(9) بچوں کو سادگی اور اپنے ہاتھ سے کام کرنا سکھایا جائے
اگر ممکن ہو تو تلوار چلانا وغیرہ سکھایا جائے۔
(10) بچوں کو علم کے ساتھ کوئی ہنر بھی سکھایا جائے جس سے بچہ کما کر اپنا پیٹ پال سکے۔
سوال:بچیوں کی تربیت کیسے کرنی چاہیے؟
جواب:
لڑکیوں کوکھاناپکانا،سینا،پرونا،اورگھر کے کام کاج، پاکدامنی اور شرم و حیاء سکھاؤ کہ یہ لڑکیوں کاہنر ہے ان کو کالیجیٹ اورگریجویٹ نہ بنایا جائے ۔
بچوں کی پرورش کا اسلامی طریقہ
سوال:بچوں کی پرورش کا اسلامی طریقہ تحریر کریں۔
جواب: (1)لڑکے اور لڑکی کو دو سال سے زیادہ دودھ نہ پلایا
جائے۔
(2) جب بچہ کچھ بولنے کے لائق ہو تو اس سے اللہ کا نام
سکھایا جائے۔
(3) جب بچہ سمجھ دار ہو جائے تو اس کے سامنے ایسی حرکتیں نہ
کی جائیں جس سے بچے کے اخلاق خراب ہو ں ۔
(4)بچوں کے سامنے نماز پڑھی جائے،قرآن پاک کی تلاوت کی جائے۔
(5)بزرگان دین کے قصے اور سبق آموز کہانیاں سنائی جائیں ۔
(6) جب بچہ ہو ش سنبھالے تو سب سے پہلے اس کو پانچویں کلمے
، ایمان مجمل، ایمان مفصل اور نماز سیکھائی جائے۔
(7)بچے کو کسی صحیح العقیدہ مولوی کے پاس بٹھا کر قرآن پاک
، دین کی بنیادی باتیں اور پاکی پلیدی کے احکام یاد کروائے جائیں ۔
(8) اگر اللہ پاک نے آپ کو چار یا پانچ بیٹے دیے ہیں تو کسی
ایک کو عالم یا حافظ ضرور بنائیں۔
(9) بچوں کو سادگی اور اپنے ہاتھ سے کام کرنا سکھایا جائے
اگر ممکن ہو تو تلوار چلانا وغیرہ سکھایا جائے۔
(10) بچوں کو علم کے ساتھ کوئی ہنر بھی سکھایا جائے جس سے بچہ کما کر اپنا پیٹ پال سکے۔
سوال:بچیوں کی تربیت کیسے کرنی چاہیے؟
جواب:
لڑکیوں کوکھاناپکانا،سینا،پرونا،اورگھر کے کام کاج، پاکدامنی اور شرم و حیاء سکھاؤ کہ یہ لڑکیوں کاہنر ہے ان کو کالیجیٹ اورگریجویٹ نہ بنایا جائے ۔
نکاح اور رخصتی کا اسلامی طریقہ
اگر بارات شہر کی شہر میں ہے تو ظہر کی نماز پڑھ کر بارات کا مجمع دولہا کے گھر جمع ہو اور دلہن والے لوگ دلہن کے گھر جمع ہوں۔ دلہن کے یہاں اس وقت نعت خوانی یا وعظ یا درود شریف کی محفل ہو۔ ادھر دولہا کو اچھا سہرا باندھ کر یا پیدل یا گھوڑے پر سوار کرکے نعت خوانی کے ساتھ جلوس روانہ ہو۔ جب یہ برات دلہن کے گھر پہنچے تو دلہن والے خالی چائے سے مہمان نوازی کر یں۔ پھر عمدہ طریقہ سے خطبہ نکاح پڑھ کر نکاح ہوجائے۔ اگر نکاح مسجد میں ہو تو اور بھی اچھا ہے اور اگر لڑکی کے گھر ہو تب بھی کوئی حرج نہیں۔ نکاح ہوتے ہی باراتی لوگ واپس ہوجائیں یہ تمام کام عصر سے پہلے ہوجائیں اور بعد مغر ب کو دولہن کو رخصت کر دیا جائے مگر اس پر کسی قسم کا نچھاور اور بکھیر بالکل نہ ہو ۔ہاں نکاح کے وقت خرمے لٹا نا سنت ہے۔ اور اگر برات دوسرے شہر سے آئی ہے تو برات میں آنے والے آدمی مرد اور عورت ۲۵ سے زیادہ نہ ہوں اور ان مہمانوں کو لڑکی والا کھانا کھلائیں مگر یہ کھانا مہمانی کے حق کا ہوگانہ کہ برات کی رو ٹی۔ عام دعوت بالکل بند کردی جائے۔ جب دلہن خیر سے گھر پہنچے تو رخصت کے دو سرے دن دولہا کے گھر دعوت ولیمہ ہونی چاہيے۔ یہ دعوت اپنی حیثیت کے مطابق ہو کہ یہ سنت ہے ۔
نکاح اور رخصتی کا اسلامی طریقہ
نکاح اور رخصتی کا اسلامی طریقہ
اگر بارات شہر کی شہر میں ہے تو ظہر کی نماز پڑھ کر بارات کا مجمع دولہا کے گھر جمع ہو اور دلہن والے لوگ دلہن کے گھر جمع ہوں۔ دلہن کے یہاں اس وقت نعت خوانی یا وعظ یا درود شریف کی محفل ہو۔ ادھر دولہا کو اچھا سہرا باندھ کر یا پیدل یا گھوڑے پر سوار کرکے نعت خوانی کے ساتھ جلوس روانہ ہو۔ جب یہ برات دلہن کے گھر پہنچے تو دلہن والے خالی چائے سے مہمان نوازی کر یں۔ پھر عمدہ طریقہ سے خطبہ نکاح پڑھ کر نکاح ہوجائے۔ اگر نکاح مسجد میں ہو تو اور بھی اچھا ہے اور اگر لڑکی کے گھر ہو تب بھی کوئی حرج نہیں۔ نکاح ہوتے ہی باراتی لوگ واپس ہوجائیں یہ تمام کام عصر سے پہلے ہوجائیں اور بعد مغر ب کو دولہن کو رخصت کر دیا جائے مگر اس پر کسی قسم کا نچھاور اور بکھیر بالکل نہ ہو ۔ہاں نکاح کے وقت خرمے لٹا نا سنت ہے۔ اور اگر برات دوسرے شہر سے آئی ہے تو برات میں آنے والے آدمی مرد اور عورت ۲۵ سے زیادہ نہ ہوں اور ان مہمانوں کو لڑکی والا کھانا کھلائیں مگر یہ کھانا مہمانی کے حق کا ہوگانہ کہ برات کی رو ٹی۔ عام دعوت بالکل بند کردی جائے۔ جب دلہن خیر سے گھر پہنچے تو رخصت کے دو سرے دن دولہا کے گھر دعوت ولیمہ ہونی چاہيے۔ یہ دعوت اپنی حیثیت کے مطابق ہو کہ یہ سنت ہے ۔
سوال:
جہیز میں کیا کیا چیزیں ہونی چاہیے؟
جواب: بر تن
ااعدد، چا ر پائی درمیانی ایک عد د، لحاف ایک عد د،تو شک ایک عدد، ایک عد دتکیہ ،ایک عد دچا در ،د دلہن
کو جوڑے چا ر عدد(دو عدد سوتی ہاور دو ریشمی)۔ دولہا کو جوڑے دو عدد، دولہا کے
والد کو جوڑا ایک عدد، دولہا کی ماں کو جوڑا ایک عدد، مصلی ایک عدد، قرآن شریف مع رحل ایک عدد، زیور
بقدرہمت ۔ اگر ہو سکے تو اس کے علاوہ نقد روپیہ لڑکی کے نام میں جمع کر ادو اور
اگر تم کو اللہ عزوجل نے دیا ہے تو لڑکی کو کوئی مکان، دوکان، جائیداد کی شکل میں
خرید دو ۔لیکن یہ بھی یا د رکھو کہ تمام
لڑکیوں میں برابری ہونا ضروری ہے۔
سوال: حضرت
فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت
علی رضی اللہ عنہ کی
بوقت نکاح عمر کتنی تھی؟
جواب: حضرت فاطمہ
رضی اللہ عنہا کی عمر پندرہ سال اور حضرت
علی رضی اللہ عنہ کی
عمر بائیس سال تھی۔
سوال: حضرت
فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت
علی رضی اللہ عنہ کا نکاح کب ہوا؟
جواب: ہجرت کے
دوسرے سال،سترہ رجب بروز پیر۔
سوال: حضرت
فاطمہ کا مہر کتنا تھا؟
جواب: چا ر سو مثقال چاندی جس کا وزن ڈیڑھ سو تولہ تھا۔
سوال: حضرت
فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی کب
ہوئی؟
جواب: ماہ ذی الحجہ میں۔
سوال: حضرت علی
رضی اللہ عنہ کی دعوت ولیمہ میں
کیا کیا تھا؟
جواب: دس سیر جوکی رو ٹیاں ،کچھ پنیر اور تھوڑے خرمے۔
سوال: حضرت
فاطمہ رضی اللہ عنہا کے جہیز میں
کیا کیا تھا؟
جواب:سترہ پیوند لگی ایک چادر ،ایک توشک چمڑے کے غلاف والا، ایک تکیہ اور ایک لحاف جس میں خرمے کی چھال تھی۔
ایک چکی پیسنے والی، ایک مشکیزہ پانی کے لئے،نقری کنگن کی جوڑٰی ،ہاتھی دانت کا ہاراور ایک جوڑا کھڑاؤں کا ۔
جہیز کے متعلق سوالات و جوابات
سوال:
جہیز میں کیا کیا چیزیں ہونی چاہیے؟
جواب: بر تن
ااعدد، چا ر پائی درمیانی ایک عد د، لحاف ایک عد د،تو شک ایک عدد، ایک عد دتکیہ ،ایک عد دچا در ،د دلہن
کو جوڑے چا ر عدد(دو عدد سوتی ہاور دو ریشمی)۔ دولہا کو جوڑے دو عدد، دولہا کے
والد کو جوڑا ایک عدد، دولہا کی ماں کو جوڑا ایک عدد، مصلی ایک عدد، قرآن شریف مع رحل ایک عدد، زیور
بقدرہمت ۔ اگر ہو سکے تو اس کے علاوہ نقد روپیہ لڑکی کے نام میں جمع کر ادو اور
اگر تم کو اللہ عزوجل نے دیا ہے تو لڑکی کو کوئی مکان، دوکان، جائیداد کی شکل میں
خرید دو ۔لیکن یہ بھی یا د رکھو کہ تمام
لڑکیوں میں برابری ہونا ضروری ہے۔
سوال: حضرت
فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت
علی رضی اللہ عنہ کی
بوقت نکاح عمر کتنی تھی؟
جواب: حضرت فاطمہ
رضی اللہ عنہا کی عمر پندرہ سال اور حضرت
علی رضی اللہ عنہ کی
عمر بائیس سال تھی۔
سوال: حضرت
فاطمہ رضی اللہ عنہا اور حضرت
علی رضی اللہ عنہ کا نکاح کب ہوا؟
جواب: ہجرت کے
دوسرے سال،سترہ رجب بروز پیر۔
سوال: حضرت
فاطمہ کا مہر کتنا تھا؟
جواب: چا ر سو مثقال چاندی جس کا وزن ڈیڑھ سو تولہ تھا۔
سوال: حضرت
فاطمہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی کب
ہوئی؟
جواب: ماہ ذی الحجہ میں۔
سوال: حضرت علی
رضی اللہ عنہ کی دعوت ولیمہ میں
کیا کیا تھا؟
جواب: دس سیر جوکی رو ٹیاں ،کچھ پنیر اور تھوڑے خرمے۔
سوال: حضرت
فاطمہ رضی اللہ عنہا کے جہیز میں
کیا کیا تھا؟
جواب:سترہ پیوند لگی ایک چادر ،ایک توشک چمڑے کے غلاف والا، ایک تکیہ اور ایک لحاف جس میں خرمے کی چھال تھی۔
ایک چکی پیسنے والی، ایک مشکیزہ پانی کے لئے،نقری کنگن کی جوڑٰی ،ہاتھی دانت کا ہاراور ایک جوڑا کھڑاؤں کا ۔
میلاد کے متعلق سوالات و جوابات
سوال: حضورﷺ کی ولادت پر خوشی منانا کہاں سے ثابت
ہے؟
جواب: بخاری شریف میں ہے کہ ابولہب نے حضورﷺکے پیدا ہونے کی
خوشی میں اپنی لونڈی ثویبہ کو آزاد کیا تھااس کے مرنے کے
بعد اس کو کسی نے خواب میں
دیکھا پوچھا تیرا حال کیا ہے اس نے کہا حال تو بہت خراب ہے مگر پیرکے دن عذاب میں
کمی ہوجاتی ہے کیونکہ میں نے حضورﷺکے پیدا ہونے کی خوشی کی تھی۔
جب کافر ابولہب کو حضورﷺکی پیدائش کی خوشی کا کچھ نہ کچھ
فائدہ مل گیا تو مسلمان اگر ان کی خوشی منائے تو ضرور ثواب پائے گا۔
سوال:ربیع الاول اور ربیع الثانی کی محافل کے کیا
فوائد ہیں؟
جواب: ان محافل کی و جہ سے مسلمانوں کو نصیحت کرنے کا موقع
مل جاتا ہے اور مسلمانوں میں حضور ﷺکی محبت پیدا ہوتی ہے جوایمان کی جڑ ہے۔
سوال: ربیع الاول میں جلوس نکالنا کہاں سے ثابت
ہے؟
جواب: جب حضورﷺمدینہ منورہ میں ہجرت کرکے تشریف لائے تو مدینہ
پاک کے جوان اوربچے وہاں کے بازاروں کوچوں اور گلیوں میں یا رسول اللہ! کے نعرے
لگاتے پھرتے تھے اور جلوس نکالے گئے تھے۔
(صحیح مسلم)
سوال: ربیع الاول میں جلوس نکالنا کا کیا فائدہ
ہیں؟
جواب: اس جلوس کے ذریعہ سے کفار اور دوسری قومیں بھی حضورﷺکے
مبارک حالات سن لیں گی۔جو اسلامی جلسوں میں نہیں آتے ان کے دلوں میں اسلام کی ہیبت
اور بانئ اسلام ﷺکی عزت پیدا ہوگی۔ مگر جلوس کے آگے باجہ وغیرہ کا ہونا یا ساتھ عورتوں کا جانا حرام ہے۔
سوال:محفل میلاد کی کیا برکت ہے؟
جواب: تفسیر روح البیان میں ہے کہ محفلِ میلادشریف کی برکت سال بھر تک گھر میں رہتی ہے۔
میلاد کے متعلق سوالات و جوابات
میلاد کے متعلق سوالات و جوابات
سوال: حضورﷺ کی ولادت پر خوشی منانا کہاں سے ثابت
ہے؟
جواب: بخاری شریف میں ہے کہ ابولہب نے حضورﷺکے پیدا ہونے کی
خوشی میں اپنی لونڈی ثویبہ کو آزاد کیا تھااس کے مرنے کے
بعد اس کو کسی نے خواب میں
دیکھا پوچھا تیرا حال کیا ہے اس نے کہا حال تو بہت خراب ہے مگر پیرکے دن عذاب میں
کمی ہوجاتی ہے کیونکہ میں نے حضورﷺکے پیدا ہونے کی خوشی کی تھی۔
جب کافر ابولہب کو حضورﷺکی پیدائش کی خوشی کا کچھ نہ کچھ
فائدہ مل گیا تو مسلمان اگر ان کی خوشی منائے تو ضرور ثواب پائے گا۔
سوال:ربیع الاول اور ربیع الثانی کی محافل کے کیا
فوائد ہیں؟
جواب: ان محافل کی و جہ سے مسلمانوں کو نصیحت کرنے کا موقع
مل جاتا ہے اور مسلمانوں میں حضور ﷺکی محبت پیدا ہوتی ہے جوایمان کی جڑ ہے۔
سوال: ربیع الاول میں جلوس نکالنا کہاں سے ثابت
ہے؟
جواب: جب حضورﷺمدینہ منورہ میں ہجرت کرکے تشریف لائے تو مدینہ
پاک کے جوان اوربچے وہاں کے بازاروں کوچوں اور گلیوں میں یا رسول اللہ! کے نعرے
لگاتے پھرتے تھے اور جلوس نکالے گئے تھے۔
(صحیح مسلم)
سوال: ربیع الاول میں جلوس نکالنا کا کیا فائدہ
ہیں؟
جواب: اس جلوس کے ذریعہ سے کفار اور دوسری قومیں بھی حضورﷺکے
مبارک حالات سن لیں گی۔جو اسلامی جلسوں میں نہیں آتے ان کے دلوں میں اسلام کی ہیبت
اور بانئ اسلام ﷺکی عزت پیدا ہوگی۔ مگر جلوس کے آگے باجہ وغیرہ کا ہونا یا ساتھ عورتوں کا جانا حرام ہے۔
سوال:محفل میلاد کی کیا برکت ہے؟
جواب: تفسیر روح البیان میں ہے کہ محفلِ میلادشریف کی برکت سال بھر تک گھر میں رہتی ہے۔
جواب: سُسرال کی لڑائیاں چند وجہ سے ہوتی ہیں کبھی تودلہن تیز زبان اور گستاخ ہوتی ہے ساس نند کو سخت جواب دیتی
ہے اس لئے لڑائی
ہوتی ہے کبھی شوہر کی چیزوں کو حقیر جانتی ہے۔کبھی
ساس نند یں، دلہن کے ماں باپ کو اس کی موجودگی میں بُر ابھلا کہتی ہیں، جس کو وہ برادشت نہيں کرسکتی، کبھی میکے بھیجنے پر جھگڑاہوتاہے
کہ دلہن کہتی ہے کہ میں میکے جاؤں گی سسرال والے نہیں بھیجتے ۔کبھی ساس نندیں بلاوجہ دلہن پر بدگمانی کرتی ہیں کہ ہماری دلہن چیزوں
کی چوری کرکے میکے پہنچاتی ہے۔
ان شکایات کی جڑ یہ ہے کہ ایک دوسرے کے حقوق سے بے خبر ہیں۔
سوال:ساس کو بہو کے ساتھ کیسا رویہ رکھنا چاہیے؟
جواب:بہو کے ساتھ وہ سلوک کریں جو اپنی اولاد سے کرتے ہیں یا اپنی بیٹی کیلئے ہم خود چاہتے ہیں وہ بھی تو کسی کی بچی ہے جو چیز اپنی بچی
کیلئے گوارانہ کرو وہ دوسرے کی بچی سے بھی گوارانہ کرو ۔
سوال:دلہن کاسسرال میں کیسا برتاؤ ہونا چاہیے؟
جواب:دلہنوں کو چاہیے کہ سسرال میں نرم زبان سے کام لے۔نرم زبان سے انسان جانوروں کو قبضے میں کرلیتا ہے یہ ساس، نندیں تو پھر
انسان ہیں ۔اگر تم اپنے ماں باپ کی بڑائی سب کو جتلاتی پھر و تو بیکار ہے مزہ تو جب ہے کہ تمہاری گفتار اور اچھے اخلاق ایسے ہوں کہ ساس
نند اور شوہربلکہ ہر دیکھنے والا تم کو دیکھ کر تمہارے ماں باپ کی تعریف کرے۔ اگر کوئی بات تمہاری مرضی کے خلاف بھی ہوجائے تو صبر
سے کام لو کچھ دنوں میں یہ ساس سسر نندیں اور شوہر سب تمہاری مرضی پر چلیں گے۔
ساس بہو کے جھگڑے
جواب: سُسرال کی لڑائیاں چند وجہ سے ہوتی ہیں کبھی تودلہن تیز زبان اور گستاخ ہوتی ہے ساس نند کو سخت جواب دیتی
ہے اس لئے لڑائی
ہوتی ہے کبھی شوہر کی چیزوں کو حقیر جانتی ہے۔کبھی
ساس نند یں، دلہن کے ماں باپ کو اس کی موجودگی میں بُر ابھلا کہتی ہیں، جس کو وہ برادشت نہيں کرسکتی، کبھی میکے بھیجنے پر جھگڑاہوتاہے
کہ دلہن کہتی ہے کہ میں میکے جاؤں گی سسرال والے نہیں بھیجتے ۔کبھی ساس نندیں بلاوجہ دلہن پر بدگمانی کرتی ہیں کہ ہماری دلہن چیزوں
کی چوری کرکے میکے پہنچاتی ہے۔
ان شکایات کی جڑ یہ ہے کہ ایک دوسرے کے حقوق سے بے خبر ہیں۔
سوال:ساس کو بہو کے ساتھ کیسا رویہ رکھنا چاہیے؟
جواب:بہو کے ساتھ وہ سلوک کریں جو اپنی اولاد سے کرتے ہیں یا اپنی بیٹی کیلئے ہم خود چاہتے ہیں وہ بھی تو کسی کی بچی ہے جو چیز اپنی بچی
کیلئے گوارانہ کرو وہ دوسرے کی بچی سے بھی گوارانہ کرو ۔
سوال:دلہن کاسسرال میں کیسا برتاؤ ہونا چاہیے؟
جواب:دلہنوں کو چاہیے کہ سسرال میں نرم زبان سے کام لے۔نرم زبان سے انسان جانوروں کو قبضے میں کرلیتا ہے یہ ساس، نندیں تو پھر
انسان ہیں ۔اگر تم اپنے ماں باپ کی بڑائی سب کو جتلاتی پھر و تو بیکار ہے مزہ تو جب ہے کہ تمہاری گفتار اور اچھے اخلاق ایسے ہوں کہ ساس
نند اور شوہربلکہ ہر دیکھنے والا تم کو دیکھ کر تمہارے ماں باپ کی تعریف کرے۔ اگر کوئی بات تمہاری مرضی کے خلاف بھی ہوجائے تو صبر
سے کام لو کچھ دنوں میں یہ ساس سسر نندیں اور شوہر سب تمہاری مرضی پر چلیں گے۔
Follow us
Search This Blog
Search This Blog
Footer Menu Widget
Main Tags
Followers
Categories
Popular Posts
-
The Power of Forgiveness in Islam: A Comprehensive Guide Introduction: Forgiveness is a central theme in Islam and a concept that holds si...
-
In the realm of digital tools, the new advanced age calculator stands out as a beacon of both aesthetic appeal and functionality. This tool ...


.jpeg)

.jpeg)

.jpeg)

.jpeg)

.jpeg)

.jpeg)

.jpeg)










0 Comments: