نکاح اور رخصتی کا اسلامی طریقہ
اگر بارات شہر کی شہر میں ہے تو ظہر کی نماز پڑھ کر بارات کا مجمع دولہا کے گھر جمع ہو اور دلہن والے لوگ دلہن کے گھر جمع ہوں۔ دلہن کے یہاں اس وقت نعت خوانی یا وعظ یا درود شریف کی محفل ہو۔ ادھر دولہا کو اچھا سہرا باندھ کر یا پیدل یا گھوڑے پر سوار کرکے نعت خوانی کے ساتھ جلوس روانہ ہو۔ جب یہ برات دلہن کے گھر پہنچے تو دلہن والے خالی چائے سے مہمان نوازی کر یں۔ پھر عمدہ طریقہ سے خطبہ نکاح پڑھ کر نکاح ہوجائے۔ اگر نکاح مسجد میں ہو تو اور بھی اچھا ہے اور اگر لڑکی کے گھر ہو تب بھی کوئی حرج نہیں۔ نکاح ہوتے ہی باراتی لوگ واپس ہوجائیں یہ تمام کام عصر سے پہلے ہوجائیں اور بعد مغر ب کو دولہن کو رخصت کر دیا جائے مگر اس پر کسی قسم کا نچھاور اور بکھیر بالکل نہ ہو ۔ہاں نکاح کے وقت خرمے لٹا نا سنت ہے۔ اور اگر برات دوسرے شہر سے آئی ہے تو برات میں آنے والے آدمی مرد اور عورت ۲۵ سے زیادہ نہ ہوں اور ان مہمانوں کو لڑکی والا کھانا کھلائیں مگر یہ کھانا مہمانی کے حق کا ہوگانہ کہ برات کی رو ٹی۔ عام دعوت بالکل بند کردی جائے۔ جب دلہن خیر سے گھر پہنچے تو رخصت کے دو سرے دن دولہا کے گھر دعوت ولیمہ ہونی چاہيے۔ یہ دعوت اپنی حیثیت کے مطابق ہو کہ یہ سنت ہے ۔

About the Author
0 Comments: