استاذ کا ادب
ایک طالب علم اس وقت تک علم حاصل نہیں کرسکتا اورنہ ہی اس سے نفع اٹھا سکتاہے جب تک کہ وہ علم اور اہل علم کی تعظیم وتوقیر نہ کرے۔ کسی نے کہا ہے کہ
جس نے جو کچھ پایا ادب واحترام کرنے کے سبب ہی سے پایا
اورجس نے جوکچھ کھویا وہ ادب واحترام نہ کرنے کے سبب ہی کھویا ۔
ادب واحترام کرنا اطاعت کرنے سے زیادہ بہترہے ۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس نے مجھے ایک حرف سکھایا میں اس کا غلام ہوں چاہے اب وہ مجھے فروخت کردے، چاہے تو آزاد کردے اورچاہے تو غلام بنا کر رکھے ۔
میں استاد کے حق کو تما م حقوق سے مقدم سمجھتاہوں ، اورہر
مسلمان پر اس کی رعایت واجب مانتاہوں۔
حق تو یہ ہے کہ استاد کی طرف ایک حرف سکھانے پر تعظیماً ایک ہزار درہم کا تحفہ بھیجا جائے ۔
اگر کوئی شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کا بیٹا عالم دین بنے تو اسے چاہیے کہ تنگدست علماء کی خدمت کریں ،ان کی عزت کرے اور ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے ان کو کچھ نہ کچھ دیتا رہے ان شاءاللہ اگر اس کا بیٹا عالم نہ بھی بنا تو پوتا ضرور بنے گا۔
طالب علم کو چاہیے کہ وہ کبھی استاد کے آگے نہ چلے ۔
ان کی نشست پر نہ
بیٹھے ۔
استاد کی اجازت کے
بغیر کلام کی ابتداء نہ کرے اور نہ ہی استاذ کی اجازت کے بغیر زیادہ
کلام کرے۔
جب وہ پریشان ہوں
تو ان سے بات نہ کرے ۔
استاد کے دروازے کو نہ کھٹکھٹائے آئے بلکہ صبر سے کام لیتے ہوئے استاذ کے باہر آنے کا انتظار کرے۔
اللہ پاک کی نافرمانی والے کاموں میں مخلوق کی
اطاعت جائز نہیں ۔
سرکارﷺ نے فرمایا: لوگوں میں سے بدترین شخص وہ ہے جو کسی کی دنیا سنوارتے سنوارتے اپنے دین کو برباد کرڈالے۔
استاد کی
اولاد اوراس کے رشتہ داروں کی تعظیم بھی
استاد کی تعظیم ہی کا ایک حصہ ہے۔
بخارا کے بڑے آئمہ میں سے ایک امام کا واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ وہ علم دین کی مجلس میں تشریف فرماتھے کہ یکایک انہوں نے بار بار کھڑا
ہونا شروع کردیا،لوگوں نے ان سے اسکی وجہ پوچھی تو فرمایاکہ میرے استاد محترم کا صاحبزادہ بچوں کے ساتھ گلی میں کھیل رہا تھا، کبھی کبھی کھیلتا ہوا وہ مسجد کی طرف آنکلتا ، پس جب میری نظر اُن پر پڑتی تو میں اپنے استاد کی تعظیم میں انکی تعظیم کیلئے کھڑا ہوجاتا۔
امام فخرالدین ارسابندی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ رئیس الائمہ کے مقام پر فائز تھے اورسلطان وقت آپ کا بے حد ادب واحترام کیا کرتاتھا۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے یہ منصب اپنے استاد کی خدمت کرنے کی وجہ سے ملا ہے ،میں نے ان کا تین سال تک کھانا پکایا اوراستاد کی عظمت کو سامنے رکھتے ہوئے میں نے کبھی بھی اس میں سے کچھ نہ کھایا ۔
جو شخص اپنے استاد کیلئے اذیت وتکلیف کا باعث بنے گا ، وہ
علم کی برکتوں سے محروم ہوجاتا ہے۔
ایک مرتبہ شیخ شمس الآئمہ حلوانی رحمۃ اللہ علیہ کو کوئی حادثہ پیش آیا جس کی وجہ سے وہ بخارا سے نکل کر ایک گاؤں میں رہنے لگے ۔ ا
دوران ان کے شاگرد ملاقات کیلئے حاضر ہوتے رہتے مگر ان کے ایک شاگردشیخ شمس الآئمہ زرنجی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ملاقات کیلئے حاضر نہ
ہوسکے پھر جب ایک مرتبہ شیخ شمس الآئمہ حلوانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی ان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے پوچھا کہ وہ ملاقات کیلئے کیوں
نہیں آئے تو شمس الآئمہ زرنجی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے عرض کی کہ عالیجاہ! میں دراصل اپنی والدہ کی خدمت میں مشغول تھا اس لیے حاضر
نہ ہوسکا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا کہ تمہیں عمردرازی تو حاصل ہوگی مگر رونق درس نہ پاسکو گے اورایسا ہی ہوا کہ شیخ شمس الآئمہ
زرنجی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا اکثر وقت دیہاتوں میں گزرا اوریہ کہیں بھی درس وتدریس کا انتظام نہ کرسکے ۔
استاد ہویا طبیب دونوں ہی اس وقت تک نصیحت نہیں کرتے جب تک
ان کی عزت نہ کی جائے ۔
اگر توطبیب سے بدسلوکی کرتا ہے تو پھر اپنی بیماری پر صبر کر ، اوراگر تو اپنے استا دسے بدسلوکی کرتا ہے تو پھر اپنی جہالت پر قناعت کر ۔
خلیفہ ہارون الرشید نے اپنے لڑکے کو امام اصمعی کے پاس علم حاصل کرنے کیلئے بھیجا،ایک دن ہارون الرشید نے دیکھا کہ امام اصمعی وضو میں اپنا پیر دھو رہے ہیں اورخلیفہ کا لڑکا پانی ڈال رہا ہے،یہ دیکھ کرخلیفہ نےامام اصمعی سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنے لڑکے کو آپ کے پاس اس لیے بھیجا تھا کہ آپ اسے علم وادب سکھائیں پھر آپ نے وضو کرتے وقت اسے ایک ہاتھ سے پانی ڈالنے اوردوسرے ہاتھ سے پاؤں دھونے کا حکم کیوں نہیں دیا؟

About the Author
0 Comments: