Latest Posts


نمازِ جنازہ کی دعائیں

اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِحَیِّنَا وَ مَیِّتِنَا وَ شَاھِدِنَا وَ غَآئِبِنَاوَصَغِیرِنَا وَ ڪَبِیْرِنَا وَذَکَرِنَا وَ اُنْثٰنَا  اَللّٰھُمَّ مَنْ

 اَحْیَیْتَهٗ مِنَّا فَاَحْیِہٖ عَلَی الْاَسْلَامِ ط وَ مَنْ تَوَفَّیْتَهٗ مِنَّا فَتَوَفَّهٗ عَلَی الْاِیْمَانِ ط



اَللّٰہُمَّ اجْعَلْہُ لَنَا فَرَطًا وَّاجْعَلْہُ لَنَاۤ اَجْرًا وَّذُخْرًا وَّاجْعَلْہُ لَنَا شَافِعًا وَمُشَفَّعًا ط


اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهَا لَنَا فَرَطًا وَّاجْعَلْهَا لَنَاۤ اَجْرًا وَّ ذُخْرًا وَّ اجْعَلْهَالَنَا شَافِعَةً وَّ مُشَفَّعَةً ط


نماز جنازہ کی دعائیں


نمازِ جنازہ کی دعائیں

اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِحَیِّنَا وَ مَیِّتِنَا وَ شَاھِدِنَا وَ غَآئِبِنَاوَصَغِیرِنَا وَ ڪَبِیْرِنَا وَذَکَرِنَا وَ اُنْثٰنَا  اَللّٰھُمَّ مَنْ

 اَحْیَیْتَهٗ مِنَّا فَاَحْیِہٖ عَلَی الْاَسْلَامِ ط وَ مَنْ تَوَفَّیْتَهٗ مِنَّا فَتَوَفَّهٗ عَلَی الْاِیْمَانِ ط



اَللّٰہُمَّ اجْعَلْہُ لَنَا فَرَطًا وَّاجْعَلْہُ لَنَاۤ اَجْرًا وَّذُخْرًا وَّاجْعَلْہُ لَنَا شَافِعًا وَمُشَفَّعًا ط


اَللّٰهُمَّ اجْعَلْهَا لَنَا فَرَطًا وَّاجْعَلْهَا لَنَاۤ اَجْرًا وَّ ذُخْرًا وَّ اجْعَلْهَالَنَا شَافِعَةً وَّ مُشَفَّعَةً ط


0 Comments:

 

انگوٹھے چوم کر آنکھوں سے لگانا

حضرتِ عَلّامَہ ابنِ عابِدِین شَامی قُدِّسَ  سِرُّہُ السّامی فرماتے ہیں: اذان میں پہلی مرتبہ اَشۡہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوۡلُ اللہ سننے پر صَلَّی اللہُ عَلَیۡکَ یَارَسُوۡلَ اللہ کہنا اور دوسری مرتبہ سننے پر قُرَّۃُ عَیۡنِیۡ بِکَ یَارَسُوۡلَ اللہ کہنا مستحب ہے۔ اس کے بعد اپنے انگوٹھوں کے ناخنوں کو آنکھوں پر رکھے اور کہے: اَللّٰہُمَّ مَتِّعۡنِیۡ بِالسَّمۡعِ وَالۡبَصَر تو ایسا کرنے والے کو سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے پیچھے پیچھے جنت میں لے جائیں گے۔ (رد المحتار،ج2، ص84)

شنوانی میں عبارت یہ ہے: جس نے مؤذن کا یہ جملہ ''اشھد ان محمدا رسول اللّٰہ'' سن کر کہا ''مرحبا بحبیبی وقرۃ عینی محمد بن عبداللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم'' پھر اپنے انگوٹھے چوم کر آنکھوں سے لگائے تو وہ نہ کبھی اندھا ہوگا اور نہ اس کی آنکھیں کبھی خراب ہوں گی انتہٰی (ت)

 (۱؎ اعانۃ الطالبین  فصل فی الاذان والاقامۃ  مطبوعہ احیاء التراث العربی بیروت     ۱/ ۲۳۳)

حضرت سیدنا خضر علیہ الصلاۃ والسلام سے روایت  کہ وہ ارشاد فرماتے ہیں جو شخص مؤذّن سے اشھد ان محمدا رسول اللّٰہ سن کر مرحبا بجبیبی وقرۃ عینی محمد بن عبداللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم کہے پھر دونوں انگوٹھے چُوم کر آنکھوں پر رکھے اس کی آنکھیں کبھی نہ دُکھیں۔

 (۱؎ المقاصد الحسنہ    حروف المیم    حدیث ۱۰۲۱    مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان ص ۳۸۴)

شمس الدین محمد بن صالح مدنی مسجد مدینہ طیبہ کے امام وخطیب نے اپنی تاریخ میں مجد مصری سے کہ سلف صالح میں تھے نقل کیا کہ میں نے اُنہیں فرماتے سُناجو شخص نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ذکر پاک اذان میں سُن کرکلمہ کی اُنگلی اور انگوٹھا ملائے اور انہیں بوسہ دے کر آنکھوں سے لگائے اُس کی آنکھیں کبھی نہ دُکھیں۔



اگر اس کے لئے کوئی خاص دلیل نہ بھی ہوتو شریعت کی طرف سے اس کی ممانعت نہ ہونا ہی اس کے جائز ہونے کے لئے کافی ہے کیونکہ یہ چیزیں اصل کے اعتبار سے جائز ہیں جب تک کہ شریعت منع نہ کردے۔ یہی وجہ ہے کہ اذان کے علاوہ بھی محبت و تعظیم کی وجہ سے حضورسرورِ دوعالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کا نامِ مبارک سن کر انگوٹھے چوم کر آنکھوں سے لگانا جائز ومستحسن ہے۔ 


انگوٹھے چوم کر آنکھوں سے لگانا

 

انگوٹھے چوم کر آنکھوں سے لگانا

حضرتِ عَلّامَہ ابنِ عابِدِین شَامی قُدِّسَ  سِرُّہُ السّامی فرماتے ہیں: اذان میں پہلی مرتبہ اَشۡہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوۡلُ اللہ سننے پر صَلَّی اللہُ عَلَیۡکَ یَارَسُوۡلَ اللہ کہنا اور دوسری مرتبہ سننے پر قُرَّۃُ عَیۡنِیۡ بِکَ یَارَسُوۡلَ اللہ کہنا مستحب ہے۔ اس کے بعد اپنے انگوٹھوں کے ناخنوں کو آنکھوں پر رکھے اور کہے: اَللّٰہُمَّ مَتِّعۡنِیۡ بِالسَّمۡعِ وَالۡبَصَر تو ایسا کرنے والے کو سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے پیچھے پیچھے جنت میں لے جائیں گے۔ (رد المحتار،ج2، ص84)

شنوانی میں عبارت یہ ہے: جس نے مؤذن کا یہ جملہ ''اشھد ان محمدا رسول اللّٰہ'' سن کر کہا ''مرحبا بحبیبی وقرۃ عینی محمد بن عبداللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم'' پھر اپنے انگوٹھے چوم کر آنکھوں سے لگائے تو وہ نہ کبھی اندھا ہوگا اور نہ اس کی آنکھیں کبھی خراب ہوں گی انتہٰی (ت)

 (۱؎ اعانۃ الطالبین  فصل فی الاذان والاقامۃ  مطبوعہ احیاء التراث العربی بیروت     ۱/ ۲۳۳)

حضرت سیدنا خضر علیہ الصلاۃ والسلام سے روایت  کہ وہ ارشاد فرماتے ہیں جو شخص مؤذّن سے اشھد ان محمدا رسول اللّٰہ سن کر مرحبا بجبیبی وقرۃ عینی محمد بن عبداللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم کہے پھر دونوں انگوٹھے چُوم کر آنکھوں پر رکھے اس کی آنکھیں کبھی نہ دُکھیں۔

 (۱؎ المقاصد الحسنہ    حروف المیم    حدیث ۱۰۲۱    مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان ص ۳۸۴)

شمس الدین محمد بن صالح مدنی مسجد مدینہ طیبہ کے امام وخطیب نے اپنی تاریخ میں مجد مصری سے کہ سلف صالح میں تھے نقل کیا کہ میں نے اُنہیں فرماتے سُناجو شخص نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ذکر پاک اذان میں سُن کرکلمہ کی اُنگلی اور انگوٹھا ملائے اور انہیں بوسہ دے کر آنکھوں سے لگائے اُس کی آنکھیں کبھی نہ دُکھیں۔



اگر اس کے لئے کوئی خاص دلیل نہ بھی ہوتو شریعت کی طرف سے اس کی ممانعت نہ ہونا ہی اس کے جائز ہونے کے لئے کافی ہے کیونکہ یہ چیزیں اصل کے اعتبار سے جائز ہیں جب تک کہ شریعت منع نہ کردے۔ یہی وجہ ہے کہ اذان کے علاوہ بھی محبت و تعظیم کی وجہ سے حضورسرورِ دوعالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کا نامِ مبارک سن کر انگوٹھے چوم کر آنکھوں سے لگانا جائز ومستحسن ہے۔ 


0 Comments:

 

شش کلمہ


پہلا کلمہ طیب

لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ا للّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ ط

دوسرا کلمہ شہادت

اَشْھَدُ اَنْ لَّاۤ اِلٰہَ اِلَّا ا للّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْكَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ ط

تیسرا کلمہ تمجید

سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ ؕ وَلَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ ط اِلَّا بِا للّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ۝

چوتھاکلمہ توحید

لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ا للّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْكَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْد ُط  یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ وَھُوَ حَیٌّ لَّا یَمُوْتُ اَبَدًا اَبَدًا ؕ ذُو الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ ط بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَھُوَعَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ؕ

پانچواں کلمہ استغفار

اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ رَبِّیْ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ اَذْنَبْتُہٗ عَمَدًا اَوْخَطأً سِرًّا اَوْ عَلَانِیَۃً وَّاَ تُوْبُ اِلَیْہِ مِنَ الذَّنْبِ الَّذِیْۤ اَعْلَمُ وَمِنَ الذَّنْبِ الَّذِیْ لَاۤ اَعْلَمُ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ وَسَتَّارُ الْعُیُوْبِ وَغَفَّارُ الذُّنُوْبِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِا للّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ ؕ



ششم کلمہ ردِّکفر

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُبِكَ مِنْ اَنْ اُشْرِكَ بِكَ شَیْئًا وَّاَنَا اَعْلَمُ بِہٖ وَاَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَاۤ اَعْلَمُ بِہٖ تُبْتُ عَنْہُ وَتَبَرَّاْتُ مِنَ الْکُفْرِ وَالشِّرْكِ وَالْکِذْبِ وَالْغِیْبَۃِ وَالْبِدْعَۃِ وَالنَّمِیْمَۃِ وَالْفَوَاحِشِ 

وَالْبُھْتَانِ وَالْمَعَاصِیْ ڪُلِّھَا وَ اَسْلَمْتُ وَاَقُوْلُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ا للّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ا للّٰہِ ؕ

شش کلمہ

پہلا کلمہ طیب:اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔

دوسرا کلمہ شہادت: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بیشک محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔

تیسرا کلمہ تمجید: اللہ پاک ہے اور سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں اور اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے۔ گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکی کی توفیق نہیں مگر اللہ کی طرف سے عطا ہوتی ہے جو بہت بلند عظمت والا ہے۔

چوتھا کلمہ توحید :اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہی ہے اور اسی کے لئے تعریف ہے، وہی زندہ کرتا اور مارتاہے اور وہ ہمیشہ زندہ ہے، اسے کبھی موت نہیں آئے گی، بڑے جلال اور بزرگی والا ہے۔ اس کے ہاتھ میں بھلائی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

پانچواں کلمہ استغفار:   

میں اپنے پروردگار اللہ سے معافی مانگتا ہوں ہر اس گناہ کی جو میں نے جان بوجھ کر کیا یا بھول کر، چھپ کر کیا یا ظاہر ہوکر۔اور میں اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں اس گناہ کی جسے میں جانتا ہوں اور اس گناہ کی بھی جسے میں نہیں جانتا۔(اے اللہ!) بیشک تو غیبوں کا جاننے والا، عیبوں کا چھپانے والا اور گناہوں کا بخشنے والا ہے۔ اور گناہ سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت نہیں مگرا للہ کی مدد سے جو بہت بلند عظمت والا ہے۔

 

ششم کلمہ رد کفر:

اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں کسی شے کو جان بوجھ کر تیرا شریک بناؤں اور بخشش مانگتا ہوں تجھ سے اس (شرک) کی جسے میں نہیں جانتا اور میں نے اس سے توبہ کی اور بیزار ہوا کفر، شرک، جھوٹ، غیبت، بدعت اور چغلی سے اور بے حیائی کے کاموں سے اور بہتان باندھنے سے اور تمام گناہوں سے۔ اور میں اسلام لایا۔ اور میں کہتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔






چھ کلمے اردو ترجمے کے ساتھ

 

شش کلمہ


پہلا کلمہ طیب

لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ا للّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ ط

دوسرا کلمہ شہادت

اَشْھَدُ اَنْ لَّاۤ اِلٰہَ اِلَّا ا للّٰہُ وَحْدَہٗ لَاشَرِیْكَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ ط

تیسرا کلمہ تمجید

سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَاۤ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ ؕ وَلَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ ط اِلَّا بِا للّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ۝

چوتھاکلمہ توحید

لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ا للّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْكَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْد ُط  یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ وَھُوَ حَیٌّ لَّا یَمُوْتُ اَبَدًا اَبَدًا ؕ ذُو الْجَلَالِ وَالْاِکْرَامِ ط بِیَدِہِ الْخَیْرُ وَھُوَعَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ؕ

پانچواں کلمہ استغفار

اَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ رَبِّیْ مِنْ کُلِّ ذَنْبٍ اَذْنَبْتُہٗ عَمَدًا اَوْخَطأً سِرًّا اَوْ عَلَانِیَۃً وَّاَ تُوْبُ اِلَیْہِ مِنَ الذَّنْبِ الَّذِیْۤ اَعْلَمُ وَمِنَ الذَّنْبِ الَّذِیْ لَاۤ اَعْلَمُ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ وَسَتَّارُ الْعُیُوْبِ وَغَفَّارُ الذُّنُوْبِ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِا للّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ ؕ



ششم کلمہ ردِّکفر

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُبِكَ مِنْ اَنْ اُشْرِكَ بِكَ شَیْئًا وَّاَنَا اَعْلَمُ بِہٖ وَاَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَاۤ اَعْلَمُ بِہٖ تُبْتُ عَنْہُ وَتَبَرَّاْتُ مِنَ الْکُفْرِ وَالشِّرْكِ وَالْکِذْبِ وَالْغِیْبَۃِ وَالْبِدْعَۃِ وَالنَّمِیْمَۃِ وَالْفَوَاحِشِ 

وَالْبُھْتَانِ وَالْمَعَاصِیْ ڪُلِّھَا وَ اَسْلَمْتُ وَاَقُوْلُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ا للّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ ا للّٰہِ ؕ

شش کلمہ

پہلا کلمہ طیب:اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔

دوسرا کلمہ شہادت: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بیشک محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔

تیسرا کلمہ تمجید: اللہ پاک ہے اور سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں اور اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور اللہ سب سے بڑا ہے۔ گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکی کی توفیق نہیں مگر اللہ کی طرف سے عطا ہوتی ہے جو بہت بلند عظمت والا ہے۔

چوتھا کلمہ توحید :اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے لیے بادشاہی ہے اور اسی کے لئے تعریف ہے، وہی زندہ کرتا اور مارتاہے اور وہ ہمیشہ زندہ ہے، اسے کبھی موت نہیں آئے گی، بڑے جلال اور بزرگی والا ہے۔ اس کے ہاتھ میں بھلائی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

پانچواں کلمہ استغفار:   

میں اپنے پروردگار اللہ سے معافی مانگتا ہوں ہر اس گناہ کی جو میں نے جان بوجھ کر کیا یا بھول کر، چھپ کر کیا یا ظاہر ہوکر۔اور میں اس کی بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں اس گناہ کی جسے میں جانتا ہوں اور اس گناہ کی بھی جسے میں نہیں جانتا۔(اے اللہ!) بیشک تو غیبوں کا جاننے والا، عیبوں کا چھپانے والا اور گناہوں کا بخشنے والا ہے۔ اور گناہ سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت نہیں مگرا للہ کی مدد سے جو بہت بلند عظمت والا ہے۔

 

ششم کلمہ رد کفر:

اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں کسی شے کو جان بوجھ کر تیرا شریک بناؤں اور بخشش مانگتا ہوں تجھ سے اس (شرک) کی جسے میں نہیں جانتا اور میں نے اس سے توبہ کی اور بیزار ہوا کفر، شرک، جھوٹ، غیبت، بدعت اور چغلی سے اور بے حیائی کے کاموں سے اور بہتان باندھنے سے اور تمام گناہوں سے۔ اور میں اسلام لایا۔ اور میں کہتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں۔






0 Comments:

اِیمانِ مُفصَّل

اٰمَنْتُ بِا للّٰہِ وَمَلٰئِکَتِہٖ وَ کُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْقَدْرِ خَیْرِہٖ وَشَرِّہٖ مِنَ اللّٰہِ تَعَالٰی وَالْبَعْثِ بَعْدَالْمَوْتِ ؕ

میں ایمان لایا اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور  اس کے رسولوں پر اور قیامت کے دن پر اور اچھی بری تقدیر  پر

کہ وہ اللہ تعالی کی طرف سے ہے اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر


اِیمانِ مجمل

 

اٰمَنْتُ بِا للّٰہِ کَمَا ھُوَ بِاَسْمَآئِہٖ وَصِفَاتِہٖ وَقَبِلْتُ جَمِیْعَ اَحْکَامِہٖ اِقْرَارٌم بِاللِّسَانِ وَتَصْدِیْقٌ   بِالْقَلْبِ ط 

میں ایمان لایا اللہ پر جیسا کہ وہ اپنے ناموں      اور اپنی صفتوں کے ساتھ ہے اور میں نے قبول کیا اس کے سارے حکموں      کو زبان سے اقرار ہے اور  

دل سے تصدیق کرتا ہوں۔ 




 

ایمان مفصل اور ایمان مجمل اردو ترجمے کے ساتھ

اِیمانِ مُفصَّل

اٰمَنْتُ بِا للّٰہِ وَمَلٰئِکَتِہٖ وَ کُتُبِہٖ وَرُسُلِہٖ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْقَدْرِ خَیْرِہٖ وَشَرِّہٖ مِنَ اللّٰہِ تَعَالٰی وَالْبَعْثِ بَعْدَالْمَوْتِ ؕ

میں ایمان لایا اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور  اس کے رسولوں پر اور قیامت کے دن پر اور اچھی بری تقدیر  پر

کہ وہ اللہ تعالی کی طرف سے ہے اور مرنے کے بعد جی اٹھنے پر


اِیمانِ مجمل

 

اٰمَنْتُ بِا للّٰہِ کَمَا ھُوَ بِاَسْمَآئِہٖ وَصِفَاتِہٖ وَقَبِلْتُ جَمِیْعَ اَحْکَامِہٖ اِقْرَارٌم بِاللِّسَانِ وَتَصْدِیْقٌ   بِالْقَلْبِ ط 

میں ایمان لایا اللہ پر جیسا کہ وہ اپنے ناموں      اور اپنی صفتوں کے ساتھ ہے اور میں نے قبول کیا اس کے سارے حکموں      کو زبان سے اقرار ہے اور  

دل سے تصدیق کرتا ہوں۔ 




 

0 Comments:

Follow us

Powered by Blogger.

Search This Blog

Search This Blog

Main Tags

Followers

Categories

Lorem Ipsum is simply dummy text of the printing and typesetting industry. Lorem Ipsum has been the industry's.

Popular Posts

Become our Fan

Pages - Menu

Most Popular

The Power of Forgiveness in Islam

The Power of Forgiveness in Islam: A Comprehensive Guide Introduction: Forgiveness is a central theme in Islam and a concept that holds significant importance. It is an act of mercy that leads to a peaceful and fulfilling life. In this blog, we will explore the power of forgiveness in Islam, its importance in our daily lives, and how it can positively impact our well-being. Additionally, we will use highly searched keywords and achieve a 100 SEO score to ensure maximum reach. The Importance of Forgiveness in Islam: Forgiveness is highly emphasized in Islam as a means of attaining inner peace, seeking the pleasure of Allah, and achieving ultimate success in the Hereafter. It is a way to purify our hearts and maintain healthy relationships with others. Forgiveness is an act of righteousness that Allah loves and rewards us for. As mentioned in the Quran, "Let them pardon and overlook. Would you not love for Allah to forgive you?" (Surah An-Nur 24:22). Benefits of Forgiveness i...

**Understanding the Basics of English Grammar: Parts of Speech Explained**

**Introduction:** Mastering English grammar is like learning the building blocks of a language. One of the fundamental concepts in grammar is understanding parts of speech. They serve as the foundation upon which sentences are constructed, giving words their roles and functions. **What Are Parts of Speech?** Parts of speech are categories into which words are grouped based on their roles in sentences. There are eight main parts of speech: nouns, pronouns, verbs, adjectives, adverbs, prepositions, conjunctions, and interjections. **1. Nouns:** Nouns are words that represent people, places, things, or ideas. They can be concrete, like "table" or "book," or abstract, like "happiness" or "justice." **2. Pronouns:** Pronouns replace nouns to avoid repetition. Common pronouns include "he," "she," "it," "they," "this," and "that." **3. Verbs:** Verbs express actions, occurrences, or states of b...

Popular Posts

The Power of Forgiveness in Islam

The Power of Forgiveness in Islam: A Comprehensive Guide Introduction: Forgiveness is a central theme in Islam and a concept that holds significant importance. It is an act of mercy that leads to a peaceful and fulfilling life. In this blog, we will explore the power of forgiveness in Islam, its importance in our daily lives, and how it can positively impact our well-being. Additionally, we will use highly searched keywords and achieve a 100 SEO score to ensure maximum reach. The Importance of Forgiveness in Islam: Forgiveness is highly emphasized in Islam as a means of attaining inner peace, seeking the pleasure of Allah, and achieving ultimate success in the Hereafter. It is a way to purify our hearts and maintain healthy relationships with others. Forgiveness is an act of righteousness that Allah loves and rewards us for. As mentioned in the Quran, "Let them pardon and overlook. Would you not love for Allah to forgive you?" (Surah An-Nur 24:22). Benefits of Forgiveness i...

**Understanding the Basics of English Grammar: Parts of Speech Explained**

**Introduction:** Mastering English grammar is like learning the building blocks of a language. One of the fundamental concepts in grammar is understanding parts of speech. They serve as the foundation upon which sentences are constructed, giving words their roles and functions. **What Are Parts of Speech?** Parts of speech are categories into which words are grouped based on their roles in sentences. There are eight main parts of speech: nouns, pronouns, verbs, adjectives, adverbs, prepositions, conjunctions, and interjections. **1. Nouns:** Nouns are words that represent people, places, things, or ideas. They can be concrete, like "table" or "book," or abstract, like "happiness" or "justice." **2. Pronouns:** Pronouns replace nouns to avoid repetition. Common pronouns include "he," "she," "it," "they," "this," and "that." **3. Verbs:** Verbs express actions, occurrences, or states of b...

Unveiling the Advanced and Beautiful Age Calculator: A Blend of Aesthetics and Functionality

In the realm of digital tools, the new advanced age calculator stands out as a beacon of both aesthetic appeal and functionality. This tool is more than just a simple age calculator; it's a testament to how technology can be both practical and visually captivating. **A Touch of Elegance in Design** The age calculator showcases a clean, modern interface that is as easy on the eyes as it is to use. The minimalist design features an intuitive form with a birthdate input field and a 'Calculate' button, set against a soft, unobtrusive background. It's a perfect example of how user interfaces can be designed to be both simple and elegant. ![Advanced Age Calculator](/mnt/data/An_advanced_and_beautiful_age_calculator_on_a_comp.png) **Precision and Detail in Functionality** What sets this calculator apart is its attention to detail. Not only does it calculate your age in years, but it also breaks it down to months and days. This level of precision is particularly intriguing for ...
back to top