انگوٹھے چوم کر آنکھوں سے لگانا
حضرتِ عَلّامَہ ابنِ عابِدِین شَامی قُدِّسَ سِرُّہُ السّامی فرماتے ہیں: اذان میں پہلی مرتبہ اَشۡہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوۡلُ اللہ سننے پر صَلَّی اللہُ عَلَیۡکَ
یَارَسُوۡلَ اللہ کہنا اور دوسری مرتبہ سننے
پر قُرَّۃُ عَیۡنِیۡ بِکَ
یَارَسُوۡلَ اللہ کہنا مستحب ہے۔ اس کے بعد اپنے انگوٹھوں کے ناخنوں کو آنکھوں
پر رکھے اور کہے: اَللّٰہُمَّ مَتِّعۡنِیۡ بِالسَّمۡعِ وَالۡبَصَر تو ایسا کرنے والے کو
سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے پیچھے پیچھے
جنت میں لے جائیں گے۔ (رد المحتار،ج2، ص84)
شنوانی میں عبارت یہ ہے: جس نے مؤذن کا یہ جملہ
''اشھد ان محمدا رسول اللّٰہ'' سن کر کہا ''مرحبا بحبیبی وقرۃ عینی محمد بن
عبداللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم'' پھر اپنے انگوٹھے چوم کر آنکھوں سے لگائے
تو وہ نہ کبھی اندھا ہوگا اور نہ اس کی آنکھیں کبھی خراب ہوں گی انتہٰی (ت)
(۱؎ اعانۃ الطالبین فصل فی الاذان
والاقامۃ مطبوعہ احیاء التراث العربی
بیروت ۱/ ۲۳۳)
حضرت سیدنا خضر علیہ الصلاۃ والسلام سے روایت کہ وہ ارشاد فرماتے ہیں جو شخص مؤذّن سے اشھد
ان محمدا رسول اللّٰہ سن کر مرحبا بجبیبی وقرۃ عینی محمد بن عبداللّٰہ صلی اللّٰہ
تعالٰی علیہ وسلم کہے پھر دونوں انگوٹھے چُوم کر آنکھوں پر رکھے اس کی آنکھیں کبھی
نہ دُکھیں۔
(۱؎ المقاصد
الحسنہ حروف المیم حدیث ۱۰۲۱
مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان ص ۳۸۴)
شمس الدین محمد بن صالح مدنی مسجد مدینہ طیبہ کے امام
وخطیب نے اپنی تاریخ میں مجد مصری سے کہ سلف صالح میں تھے نقل کیا کہ میں نے اُنہیں
فرماتے سُناجو شخص نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ذکر پاک اذان میں سُن کرکلمہ
کی اُنگلی اور انگوٹھا ملائے اور انہیں بوسہ دے کر آنکھوں سے لگائے اُس کی آنکھیں
کبھی نہ دُکھیں۔
اگر
اس کے لئے کوئی خاص دلیل نہ بھی ہوتو شریعت کی طرف سے اس کی ممانعت نہ ہونا ہی اس
کے جائز ہونے کے لئے کافی ہے کیونکہ یہ چیزیں اصل کے اعتبار سے جائز ہیں جب تک کہ
شریعت منع نہ کردے۔ یہی وجہ ہے کہ اذان کے علاوہ بھی محبت و تعظیم کی وجہ سے
حضورسرورِ دوعالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ
وَاٰ لِہٖ وَسَلَّم کا
نامِ مبارک سن کر انگوٹھے چوم کر آنکھوں سے لگانا جائز ومستحسن ہے۔

About the Author
0 Comments: